Apr 06
روشنی کا نشان چاہتے ہیں
ہم نیا آسمان چاہتے ہیں
لوگ اپنی ستائشوں کے عوض
مجھ سے میری زبان چاہتے ہیں
تیری آنکھوں کے اس سمندر میں
ہم بھی اپنا نشان چاہتے ہیں
اصل میں دھوپ کے ہیں سوداگر
جن سے ہم سائبان چاہتے ہیں
نفرتوں کو فروغ دے کے سعید
لوگ امن و امان چاہتے ہیں
Apr 06
دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں
ہم تو ہر حال میں بے حال نظر آتے ہیں
بھر گئے زخم جدائی کے مگر آنکھوں میں
کچھ نشاں ہیں جو بہرحال نظر آتے ہیں
ہنس تو دیتے ہیں مگر جب بھی نظر پڑتی ہے
دل کے شیشے میں نئے بال نظر آتے ہیں
اب وہ منظر جو نگاہوں سے لپٹ جاتے تھے
وقت کی راہ میں پامال نظر آتے ہیں
جیسے ہجرت کے پرندے ہوں مرے خواب سعید
پھول کھلتے ہیں تو ہر سال نظر آتے ہیں
Apr 06
کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے
کچھ کچھ مرے مزاج میں سنجیدگی بھی ہے
کچھ میری الجھنیں بھی مرے ساتھ ساتھ ہیں
کچھ رسم و راہِ عشق میں پیچیدگی بھی ہے
کثرت سے جس گلی میں ستادہ ہیں شاہکار
دیکھو جو غور سے وہیں نادیدگی بھی ہے
اس بزمِ دل کشا کی چمک پر نہ جائیے
اس جلوہ گاہِ عام میں پوشیدگی بھی ہے
یہ شہر ہے مثالِ دلِ ملتفت یہاں
جتنا سکوں ہے اتنی ہی شوریدگی بھی ہے
تم جس کو کہہ رہے ہو فقط دل لگی سعید
اس رسم و راہ میں کہیں سنجیدگی بھی ہے
Apr 06
میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
گماں بھی جاگ رہے ہیں مرے یقین کے ساتھ
مرا مقام تو آگے تھا ماہ و انجم سے
الجھ گئے ہیں مرے راستے زمین کے ساتھ
میں اس کے جھوٹ پہ سچ کا گمان کر لوں گا
وہ کوئی بات کہے تو سہی یقین کے ساتھ
بجا ہے تیرا مچلنا مگر دل ویراں
کوئی مکاں بھی گیا ہے کبھی مکین کے ساتھ
دکھا رہے ہیں شریعت کے آئینے سب کو
’’فریب کرتے ہیں جو آپ اپنے دین کے ساتھ ‘‘
لہو لہو ہے مرا دل سنبھل کے اے قاتل
چپک نہ جائے کہیں تیری آستین کے ساتھ
سعید خود کو کسی کی نظر سے کیا دیکھوں
میں اپنی ذات میں رہتا ہوں اب یقین کے ساتھ
Apr 06
پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں
اک نیا درد ہی سہہ کر دیکھیں
ہم کو مل جائے کنارہ شاید
آئوجذبات میں بہہ کر دیکھیں
میری نظروں سے بھی گر جائیں گے
اشک آنکھوں سے تو بہہ کر دیکھیں
ہم کو آرام نہیں خوابوں سے
جس خرابے میں بھی رہ کر دیکھیں
میں سعید اور مرے دل کا غبار
آئو اک شعر تو کہہ کر دیکھیں
Apr 06
جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
خود بخود رات مہک جاتی ہے
مجھ کو دیکھے تو محبت کی شفق
اس کے چہرے سے جھلک جاتی ہے
ساتھ جب تک ہے چلے چلتے ہیں
راہ تو دور تلک جاتی ہے
زندگی بھی مری رفتار سے اب
ساتھ چلتے ہوئے تھک جاتی ہے
عشق آنکھوں میں تپکتا ہے سعید
اب کہاں دل سے کسک جاتی ہے
Apr 06
پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں
ہم بھی اس غیرتِ گلزار کے شیدائی ہیں
اس نے اک روز مجھے داد سخن بخشی تھی
لوگ جب سے مرے اشعار کے شیدائی ہیں
میں بھی نفرت کا محبت میں روادار نہیں
میرے دشمن بھی مرے یار کے شیدائی ہیں
سچ کا آزار ہی ایسا ہے تڑپ اٹھتے ہیں
لوگ ورنہ لبِ اظہار کے شیدائی ہیں
جو کبھی حرف کی حرمت پہ یقین رکھتے تھے
بِک رہے ہیں کہ خریدار کے شیدائی ہیں
چشمِ عالم ہو ستارے کہ مرا دل ہو سعید
سب کے سب ماہِ رخِ یار کے شیدائی ہیں
Apr 06
وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
کھلے ہیں تیرے لئے شہر بھر کے دروازے
کسی کی آس پہ تصویر آرزو بن کر
کھڑے ہیں کب سے مرے ساتھ گھر کے دروازے
ہمیں بھی آیا نہ دل میں اتارنے کا ہنر
نظر نہ آئے اسے بھی نظر کے دروازے
کبھی سفر ٗ کبھی آوارگی نہیں جاتی
ترس گئے ہیں مجھے میرے گھر کے دروازے
غزل کی آہٹیں سن کر چٹکنے لگتے ہیں
کمالِ شوق سے میرے ہنر کے دروازے
زبان و حرف و سماعت پہ ایک سکتہ ہے
کھلے ہیں سچ پہ بظاہر خبر کے دروازے
طلب ہے منزلِ عرفان و آگہی لیکن
مجھے قبول نہیں خیر و شر کے دروازے
ابھی تو آئی تھی شب میرے غم کدے میں سعید
ابھی سے ڈھونڈ رہی ہے سحر کے دروازے
Apr 06
ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
مجھ سے ملنا وہ ترا مل کے جدا ہو جانا
اک ندامت ہے ہنر ٹوٹ کے جڑ جانے کا
دل کو آیا نہ محبت میں فنا ہو جانا
شب کی مستی کو چھپائے گا سحر سے کیسے
اس کی انگڑائی کا خود موجِ صبا ہوجانا
تازگی عشق میں حیرت کی طلب کرتی ہے
حسن وہ ہے جسے آتا ہو نیا ہو جانا
وہ سبق دے ہمیں تسلیم و عبادت کا سعید
جس نے دیکھا ہو کسی بُت کا خدا ہو جانا
Apr 06
کیف جنوںسے دیر و حرم بولنے لگے
ہم روبرو ہوئے تو صنم بولنے لگے
پہلے تو ناگوار تھیں ان کو خموشیاں
اب ان کو یہ گلہ ہے کہ ہم بولنے لگے
یا رب عطا ہو میرے بیاں کو وہ سرکشی
میں چپ رہوں تو میرا قلم بولنے لگے
پھر آئینے نے اپنے برابر کیا ہمیں
پھر ہنس کے اپنے آپ سے ہم بولنے لگے
دل کو زباں کی نوک پہ رکھتے تھے تم سعید
کیا فکر آ پڑی ہے جو کم بولنے لگے
حالیہ تبصرے