Saeed Khan Poetry

روشنی کا نشان چاہتے ہیں

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

روشنی کا نشان چاہتے ہیں
ہم نیا آسمان چاہتے ہیں

لوگ اپنی ستائشوں کے عوض
مجھ سے میری زبان چاہتے ہیں

تیری آنکھوں کے اس سمندر میں
ہم بھی اپنا نشان چاہتے ہیں

اصل میں دھوپ کے ہیں سوداگر
جن سے ہم سائبان چاہتے ہیں

نفرتوں کو فروغ دے کے سعید
لوگ امن و امان چاہتے ہیں

دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں
ہم تو ہر حال میں بے حال نظر آتے ہیں

بھر گئے زخم جدائی کے مگر آنکھوں میں
کچھ نشاں ہیں جو بہرحال نظر آتے ہیں

ہنس تو دیتے ہیں مگر جب بھی نظر پڑتی ہے
دل کے شیشے میں نئے بال نظر آتے ہیں

اب وہ منظر جو نگاہوں سے لپٹ جاتے تھے
وقت کی راہ میں پامال نظر آتے ہیں

جیسے ہجرت کے پرندے ہوں مرے خواب سعید
پھول کھلتے ہیں تو ہر سال نظر آتے ہیں

کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے
کچھ کچھ مرے مزاج میں سنجیدگی بھی ہے

کچھ میری الجھنیں بھی مرے ساتھ ساتھ ہیں
کچھ رسم و راہِ عشق میں پیچیدگی بھی ہے

کثرت سے جس گلی میں ستادہ ہیں شاہکار
دیکھو جو غور سے وہیں نادیدگی بھی ہے

اس بزمِ دل کشا کی چمک پر نہ جائیے
اس جلوہ گاہِ عام میں پوشیدگی بھی ہے

یہ شہر ہے مثالِ دلِ ملتفت یہاں
جتنا سکوں ہے اتنی ہی شوریدگی بھی ہے

تم جس کو کہہ رہے ہو فقط دل لگی سعید
اس رسم و راہ میں کہیں سنجیدگی بھی ہے

میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
گماں بھی جاگ رہے ہیں مرے یقین کے ساتھ

مرا مقام تو آگے تھا ماہ و انجم سے
الجھ گئے ہیں مرے راستے زمین کے ساتھ

میں اس کے جھوٹ پہ سچ کا گمان کر لوں گا
وہ کوئی بات کہے تو سہی یقین کے ساتھ

بجا ہے تیرا مچلنا مگر دل ویراں
کوئی مکاں بھی گیا ہے کبھی مکین کے ساتھ

دکھا رہے ہیں شریعت کے آئینے سب کو
’’فریب کرتے ہیں جو آپ اپنے دین کے ساتھ ‘‘

لہو لہو ہے مرا دل سنبھل کے اے قاتل
چپک نہ جائے کہیں تیری آستین کے ساتھ

سعید خود کو کسی کی نظر سے کیا دیکھوں
میں اپنی ذات میں رہتا ہوں اب یقین کے ساتھ

پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں
اک نیا درد ہی سہہ کر دیکھیں

ہم کو مل جائے کنارہ شاید
آئوجذبات میں بہہ کر دیکھیں

میری نظروں سے بھی گر جائیں گے
اشک آنکھوں سے تو بہہ کر دیکھیں

ہم کو آرام نہیں خوابوں سے
جس خرابے میں بھی رہ کر دیکھیں

میں سعید اور مرے دل کا غبار
آئو اک شعر تو کہہ کر دیکھیں

جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے

متفرقایک تبصرہ کیا گیا ہے »

جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
خود بخود رات مہک جاتی ہے

مجھ کو دیکھے تو محبت کی شفق
اس کے چہرے سے جھلک جاتی ہے

ساتھ جب تک ہے چلے چلتے ہیں
راہ تو دور تلک جاتی ہے

زندگی بھی مری رفتار سے اب
ساتھ چلتے ہوئے تھک جاتی ہے

عشق آنکھوں میں تپکتا ہے سعید
اب کہاں دل سے کسک جاتی ہے

پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں
ہم بھی اس غیرتِ گلزار کے شیدائی ہیں

اس نے اک روز مجھے داد سخن بخشی تھی
لوگ جب سے مرے اشعار کے شیدائی ہیں

میں بھی نفرت کا محبت میں روادار نہیں
میرے دشمن بھی مرے یار کے شیدائی ہیں

سچ کا آزار ہی ایسا ہے تڑپ اٹھتے ہیں
لوگ ورنہ لبِ اظہار کے شیدائی ہیں

جو کبھی حرف کی حرمت پہ یقین رکھتے تھے
بِک رہے ہیں کہ خریدار کے شیدائی ہیں

چشمِ عالم ہو ستارے کہ مرا دل ہو سعید
سب کے سب ماہِ رخِ یار کے شیدائی ہیں

وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
کھلے ہیں تیرے لئے شہر بھر کے دروازے

کسی کی آس پہ تصویر آرزو بن کر
کھڑے ہیں کب سے مرے ساتھ گھر کے دروازے

ہمیں بھی آیا نہ دل میں اتارنے کا ہنر
نظر نہ آئے اسے بھی نظر کے دروازے

کبھی سفر ٗ کبھی آوارگی نہیں جاتی
ترس گئے ہیں مجھے میرے گھر کے دروازے

غزل کی آہٹیں سن کر چٹکنے لگتے ہیں
کمالِ شوق سے میرے ہنر کے دروازے

زبان و حرف و سماعت پہ ایک سکتہ ہے
کھلے ہیں سچ پہ بظاہر خبر کے دروازے

طلب ہے منزلِ عرفان و آگہی لیکن
مجھے قبول نہیں خیر و شر کے دروازے

ابھی تو آئی تھی شب میرے غم کدے میں سعید
ابھی سے ڈھونڈ رہی ہے سحر کے دروازے

نذرِ غالب

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
مجھ سے ملنا وہ ترا مل کے جدا ہو جانا

اک ندامت ہے ہنر ٹوٹ کے جڑ جانے کا
دل کو آیا نہ محبت میں فنا ہو جانا

شب کی مستی کو چھپائے گا سحر سے کیسے
اس کی انگڑائی کا خود موجِ صبا ہوجانا

تازگی عشق میں حیرت کی طلب کرتی ہے
حسن وہ ہے جسے آتا ہو نیا ہو جانا

وہ سبق دے ہمیں تسلیم و عبادت کا سعید
جس نے دیکھا ہو کسی بُت کا خدا ہو جانا

کیف جنوںسے دیر و حرم بولنے لگے

متفرقابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کیف جنوںسے دیر و حرم بولنے لگے
ہم روبرو ہوئے تو صنم بولنے لگے

پہلے تو ناگوار تھیں ان کو خموشیاں
اب ان کو یہ گلہ ہے کہ ہم بولنے لگے

یا رب عطا ہو میرے بیاں کو وہ سرکشی
میں چپ رہوں تو میرا قلم بولنے لگے

پھر آئینے نے اپنے برابر کیا ہمیں
پھر ہنس کے اپنے آپ سے ہم بولنے لگے

دل کو زباں کی نوک پہ رکھتے تھے تم سعید
کیا فکر آ پڑی ہے جو کم بولنے لگے